بین الاقوامی

کیا مشرقِ وسطیٰ ایک نئی بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے؟ ایران بمقابلہ امریکہ

ایران کا جوہری بم؟ امریکہ سے ٹکراؤ قریب؟

یران، جوہری پروگرام اور امریکہ کے ساتھ کشیدگی — تازہ تجزیہ

تاریخ: جنوری ۲۰۲۶

ایران کا جوہری پروگرام اور امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی سیاست کا سب سے حساس موضوعات میں سے ایک ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، لیکن امریکہ اور مغربی ممالک اسے جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ رپوٹوں کے مطابق ایران کے پاس افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ہے جس سے کم از کم گیارہ جوہری ہتھیار تیار کیے جاسکتے ہیں، اور یہ ذخیرہ عالمی نگرانی سے باہر بھی منتقل کیا گیا ہے۔

سال ۲۰۲۵ میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی تین بڑی جوہری تنصیبات، جیسے فردو، نطنز اور اصفہان، پر فضائی حملے کیے تاکہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو کم از کم مہینوں تک پیچھے دھکیلا جا سکے۔ امریکہ کا دعویٰ تھا کہ اس نے پروگرام کو ایک دو سال تک سست کیا ہے، جبکہ امریکہ کی انٹیلی جنس رپورٹس بتاتی ہیں کہ نقصان محدود رہا ہے۔

ایران نے بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ ایٹمی پروگرام جاری رکھے گا اور دوبارہ تنصیبات کی تعمیر و افزودگی کی کارروائیاں تیز کر رہا ہے۔

ان کشیدگیوں کے باعث جون ۲۰۲۵ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان ۱۲ روزہ براہِ راست جنگ بھی ہوئی، جس میں دونوں طرف سے میزائل اور ڈرون حملے ہوئے اور بڑی تعداد میں افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔

موجودہ داخلی بحران میں ایران میں بھی وسیع احتجاج ہو رہے ہیں، جس کی وجہ بڑھتی مہنگائی اور سیاسی عدم اطمینان ہے، اور حکومت امریکہ اور اسرائیل کو اس میں ملوث قرار دے رہی ہے۔ امریکہ نے بھی احتجاج پر سخت کارروائی پر ایران کو خبردار کیا ہے، اور بعض رپورٹس کے مطابق امریکہ ممکنہ مداخلت کے حالات کو دیکھ رہا ہے۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ یا کوئی بھی خارجی طاقت حملہ کرے تو وہ امریکی فوجی اڈوں اور اتحادیوں کو نشانہ بنائے گا، اور خود کسی جنگ سے گریز کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔

یہ کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں بلکہ عالمی سطح پر سلامتی، توانائی اور تجارت پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں
Back to top button