پاکستان

پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی صوبائی حکومت نے اپنے وسائل سے ایک بھی میگا پراجیکٹ نہیں بنایا لیکن خیبرپختونخوا حکومت نے نئی تاریخ رقم کردی، حیرت انگیز انکشافات

پشاور)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ گذشتہ 65سالہ تاریخ میں کسی بھی صوبائی حکومت نے اپنے وسائل سے ایک بھی میگا پراجیکٹ نہیں بنایا یہ واحد صوبائی حکومت ہے جس نے اپنے وسائل سے سوات موٹر وے جیسا عظیم منصوبہ تعمیر کیا ہے جو ملک میں اپنی نوعیت کی پہلی صوبائی موٹروے ہے ۔پی ٹی آئی کی کارکردگی پر سوالات اٹھانے والے مخالفین اپنے ادوار میں تو عوامی فلاح کا ایک منصوبہ بھی قوم کو نہیں دے سکے اور آج ہمارے منصوبوں کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ درحقیقت جو خود چور اور کرپٹ ہوں

وہ دوسروں کو بھی کرپٹ سمجھتے ہیں ۔واحد تحریک انصاف ہے جو عام آدمی کی فلاح کا ایجنڈا اور سوچ رکھتی ہے ۔آئندہ انتخابات میں مخالفین کو پتہ چل جائے گا کہ عوام پی ٹی آئی کی کارکردگی سے خوش اور مفاد پرست سیاستدانوں سے نالاں ہیں ۔آئندہ حکومت بھی تحریک انصاف کی ہو گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کرنل شیر خان انٹر چینج پر سوات موٹروے کے پہلے سیکشن کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصراور ڈائریکٹر جنرل ایف ڈبلیو اولیفٹنٹ جنرل محمد افضل نے بھی تقریب سے خطاب کیا جبکہ سینئر صوبائی وزیر صحت شہرام خان ترکئی ، صوبائی وزیر تعلیم محمد عاطف خان، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب، ایم پی اے و صوبائی حکومت کے ترجمان شوکت یوسفزئی اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات اور افسران نے تقریب میں شرکت کی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم سب کیلئے خوشی کا دن ہے کہ آج سیاحت کے مواقعوں سے معمور اور محنت کشوں کے اضلاع کیلئے ایسے روٹ کا افتتاح کیا جا رہا ہے جو صدیوں یاد رہے گا۔ انہوں نے فرنٹیرورکس آرگنائزیشن کا شکریہ ادا کیا جس نے تیز رفتاری کے ساتھ اس مشکل ہدف کو عبور کرنے کیلئے دن رات محنت یقینی بنائی اور اُمید ظاہر کی کہ یہ منصوبہ مقررہ وقت سے پہلے ہی مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے قلیل عرصے میں باب پشاور فلائی اوور مکمل کیا جو ایک ریکارڈ اور فن تعمیر کا شاہکار منصوبہ ہے ۔ زیر تعمیر پشاور بس ریپڈ منصوبے کی تعمیر تیز رفتاری سے جاری ہے ۔ آٹھ ماہ میں مکمل ہونے والا اپنی نوعیت کا دُنیا کا تیز ترین منصوبہ ہو گا ۔ اس کے مقابلے میں اس نوعیت کے منصوبوں میں دوبئی میں اڑھائی سال، لاہور میں15 ماہ میں، اسلام آباد میں 16 ماہ لگے ۔ بی آر ٹی کی تعمیر کا ابھی ساتواں ماہ ہے جو آٹھ ماہ میں مکمل ہو جائے گی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہر پراجیکٹ کی اپنی ایک نوعیت ہوتی ہے اور اُس کی ایک اپنی ٹائم لائن ہو تی ہے بارشوں اور ڈیزائن وغیر ہ میں تبدیلی کی وجہ سے کام میں رکاوٹ آئی جس کی صوبائی حکومت ذمہ دار نہیں ہے بلکہ حکومت صرف پیشرفت دیکھ رہی ہے۔ہمارا تیسرا اور اہم پراجیکٹ سوات موٹرو ے ہے ۔ جس کے ایک سیکشن کو ٹریفک کیلئے آج کھول دیا گیا ہے جبکہ باقی ماندہ منصوبے پر تیز رفتاری سے پیش رفت جاری ہے اور تکمیل کی طرف گامزن ہے۔ یہ اپنی مجوزہ مدت سے پہلے مکمل ہونے والا ایک اور منصوبہ ہو گا۔ وزیراعلیٰ نے موجودہ صوبائی حکومت اور ماضی کی حکومتوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہاکہ اس صوبے میں پہلے بھی کئی حکومتیں آئیں او رگئیں مگر کوئی بھی حکومت صوبے کی 65 سالہ تاریخ میں اپنے وسائل سے میگا پراجیکٹ بنانے میں ناکام رہی ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کارکردگی کے بارے میں سوال کرنے والے مخالفین کم ازکم کوئی ایک منصوبہ بتا دیں جو انہوں نے اپنے دور میں مکمل کیا ہو اور اُس سے عوام کو سہولت اور فائدہ حاصل ہو ا ہو ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ میگا پراجیکٹس کی باتیں سن سن کے کان پک گئے ہیں ۔ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر چہ ہم نے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار اہم پراجیکٹس تعمیر کئے تاہم صحت ، تعلیم ، انصاف اور فول پروف سسٹم صوبائی حکومت کے میگا پراجیکٹس ہیں ۔ موجودہ صوبائی حکومت نے ماضی کے تباہ حال اور کرپشن زدہ اداروں کو شفاف اور خدمات کی انجام دہی کے قابل بنایا ۔وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ انہوں نے ماضی کے حکمرانوں کے ادوار بھی قریب سے دیکھے ہیں۔ مخالفین کے دور میں نہ تعلیم تھی اور نہ عوام کو صحت کی سہولیات میسر تھیں اُن کے پاس کوئی پروگرام یا ایجنڈا تھا ہی نہیں یہ واحد عمران خان اور تحریک انصاف ہے جو نظام ٹھیک کرنے اور عوام کی خدمت کرنے کی سوچ رکھتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت نے گزشتہ پا نچ سال اپنے ایجنڈے کے تحت نظام کی تبدیلی کیلئے بھر پور اقدامات کئے کیونکہ نظام کو ٹھیک کئے بغیر ملک کبھی بھی ٹھیک نہیں ہو سکتا ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ بڑا خوبصورت ملک ہے اگر سیاستدان سدھر جائیں تو یہ ملک بھی ٹھیک ہو سکتا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر مزید کہاکہ یو این ڈی پی کی ایک رپورٹ کو لیکر بہت چرچا ہو رہا ہے مگر چرچا کرنے والوں نے رپورٹ کو بغور پڑھا نہیں انہوں نے واضح کیاکہ مذکورہ رپورٹ 2005 سے 2013 کے عرصے پر مبنی ہے ۔انہوں نے کہا کہ 2013 کے بعد بھی بہت رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ اُن تمام رپورٹس میں صوبائی حکومت کی کارکردگی ٹاپ پر ہے ۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ نے ڈی جی ایف ڈبلیو او کے ہمراہ سوات موٹروے کے مکمل شدہ حصے کا دورہ بھی کیا ۔

جواب دیں

Back to top button