سید عبدالوہاب شاہ بخاریؒ المعروف سخی دین پناہ سرکار

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سید عبدالوہاب شاہ بخاریؒ المعروف سخی دین پناہ سرکار

آپ کا اصل نام حاجی حافظ سید عبدالوہاب شاہ بخاریؒ,سید صلاح الدین نقوی بخاری بن شاہ حسینؑ ہے۔ آپ کے آباؤ اجداد مدینہ منورہ میں بارہویں صدی ہجری میں اُچ شریف ضلع بہاولپور براستہ بخارا اور ہند تبلیغ اسلام کرتے ہوے ہجرت کی۔ آپ کے والد محترم شاہ حسین بن شاہ بڈھنؒ پندرھویں صدی ہجری میں گزرے ہیں۔ حضرت دین پناہؒ کی پیدایٔش 957ھ میں ہوئی اٹھائیس ویں پْشت میں آپ کا شجرہ نصب حضرت مولی علیؑ سے ملتا ہے۔علم قرآن آپ کی وراثت میں تھا۔ بزرگوں سے پورا پورا علم حاصل کیا۔ آپ حافظ قرآن تھے۔ حفظ قرآن آپ نے اپنے چچا محترم سید علی راجن شاہؒ سے کیا۔ جن کا مزار شریف شمال کی جانب تقریباً چالیس میل دور مرجع خلائق ہے۔

حضرت دین پناہؒ اپنے زمانے کے مفتی و مجتہد تھے۔ عرفان کے عارف، طریقت کے ماہر، فقر کے سرکردہ تھے۔ آپ نے ساری زندگی تبلیغ اسلام میں گزاری۔ دین اسلام کی خاطر آپ نے ایران،عراق اور عرب ریاستوں کا سفر کیا۔ ایران میں مشہد اقدس دربار حضرت امام رضاؑ میں کافی عرصہ متکلف رہے اور وہیں سے آپ کو دین پناہ کا لقب عطا ہوا۔ یہاں سے آپ براستہ قم وارد عراق ہوےجہاں کاظمین شریف،کربلا معلی اور نجف اشرف میں بھی حصول علم کے لیے رہے۔ اس کے بعد فریضہ حج کیلیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تشریف لے گئےاور تقریباً 6ماہ مدینہ منورہ میں قیام کیااور وہاں اپنے جد امجد سے فیض روحانی حاصل کرتے رہے۔

 علم روحانی اور علم دین حاصل کرنے کے بعد آپ واپس اپنے وطن اچ شریف تشریف لاےٌ۔ یہاں آپ کے والد شاہ بڈھنؒ کا انتقال ہو چکا تھا، کچھ عرصہ اچ شریف میں گزارنے کے بعد ایک رات عالم خواب میں اپنے جدامجد حضرت شیر شاہ جلال الدینؒ سرخ پوش کی طرف سے بشارت ہوئ کہ آپ تبلیغ اسلام کیلیے سفر کریں۔ چناچہ آپ نے سفر ہند کا ارادہ کرتے ہوےٗ دہلی اور بیرون دہلی تشریف لے گئےاور کافی عرصہ وہاں تبلیغ اسلام کرتے رہے۔ بعد ازاں وہاں سے اپنے روحانی پیر اور چچا حضرت علی راجن شاہؒ کے پاس تشریف لے گئےاس وقت ان کے فرزند سید زین العابدین وفات پا چکے تھے۔ کچھ عرصہ وہاں تبلیغ اسلام کے طریقے سیکھےاور وہاں سے تبلیغ کرتے ہوےٗ دائرہ دین پناہ جو کے اس وقت صرف (دائرہ) کا نام سے مشہور تھا تشریف لاےٗ۔

انبیاؑ، صحابہ کرامؓ اور اولیاؒ نے پرچم اسلام کی سربلندی اور دین اسلام کی تبلیغ کیلیےٗ اپنا گھربار،اولاد اور جاٰٗئیداد راہ حق میں وقف کرتے ہوےٗ کویٗ کسرنہ اٹھاتےاور پوری دنیا میں خدا کا پیغام لے کر کریہ کریہ پہنچے اور اپنے کردار گفتار کی وجہ سے حصول مقصد مین کامیابی اور کامرانی سے سرشار ہوےٗ اور فیوض و برکات اسلام سے روےٗ زمین کو منور کیا اور ایسے نادر نقوص چھوڑے جن کا نعم البدل ممکن نہیں۔ حضرت دین پناہؒ اسی سلسلے کا ایک ستون اسلام ہیں کرامات کے تناظر میں اولیاءاللہ کے مقام و مرتبہ کا تعین ناگزیر ہے اور اعزازات منفرد مقامات عطا کرتے ہیں جیسا کہ ایک موقع پر روایت ہے۔حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی اجمیریؒ لاہور تشریف لاےٗاولیاءاللہ کا جم غفیر تھا آپؒ نے حضرت علی ہجویری اورحضرت داتا گنج بخش کی موجودگی میں ارشاد فرمایا کہ میرے نزدیک جتنے اولیاےٗ کرام اس روےٗ زمین پر تشرئف لاےٗاور اپنے فیوض و برکات سے اسلام کی خدمت کی ان میں حضرت علی ہجویریؒ اور ہمارے بعد آنے والی شخصیت سید عبدالوہاب شاہ بخاریؒ کا جو مقام ہے وہ کسی کے حصے میں نہیں آتا۔

آج سے تقریباً 500 سال پہلے جبکہ اس شہر کا نام (دائرہ) تھا جو کہ ایک ہندوراجا کی زیرنگرانی ہندو مذہب کا مرکز تھا۔ اب بھی اس شہر میں ہندو مذہب کی باقیات موجود ہیں۔ اس شہر کی وسط میں مٹی کا قلعہ تھا جس کو گڑھی کہا جاتا تھا لیکن اب اس کا نام و نشان مٹ چکا ہےکسی بادشاہ کے فوجی قلعہ ہونے کا ثبوت تھا۔ ایک روایت ہے کہ اس قلعے یعنی گڑھی کو جو کہ کافی بلند اور فوجی نوعیت کی بنی ہویٗ تھی کو شیر شاہ سوری نے تعمیر کرایا تھا۔

ولی اللہ جن کا مقصد صرف تبلیغ اسلام ہوتا ہے ہر دور میں اللہ تعالی لوگوں کی رشدوہدایت کیلیے انبیاءکرام ولی کامل یا مجذوب بھیجتا رہتا ہے تا کہ لوگوں کو سیدھا راستہ دکھائیں۔957ھ میں سید عبدالوہاب شاہ بخاری المعروف دین پناہ سرکارؒ بچپن میں مکول خاندان جو کہ اب مخدوم کے لقب سے مشہور ہیں کے خاندان کی ایک نیک اور پارسا خاتون (مائ سہاگن) جن کا مزار شہر سے ایک کلومیٹر دور شمال کی طرف لیہ روڈ پر واقع ہے کے ہاں پرورش پائ آپکا اصل وطن مدینہ منورہ اور عارضی وطن اچ شریف ہے جہاں آپ کے والد محترم شاہ حسین بڈھنؒ مدفون ہیں۔

آپ کی اس علاقے میں تشریف لانے سے ہندوازم کا زوال شروع ہوگیا آپ کے اخلاق وپیار اور تبلیغ وہدایت کی وجہ سے یہاں اسلام پھیلنے لگا آپ کی یہ کرامات تھی کہ آپ جس طرف چہرہ مبارک پھیرتے لوگ کلمہ طیبہ پڑھنے لگ جاتے تھےتو ہندو راجا (دائرہ) جس کے نام سے یہ شہر آباد تھا بہت پریشان ہوا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ حضور میرا نام تو مٹ جاےٗ گا آپ نے اسے بڑے پیار سے سمجھایا کہ اس شہر میں پہلے تیرا تعارف ہو گا اس لیے اس شہر کا نام داٗئرہ دین پناہ یعنی دائرہ پہلے اور دین پناہ بعد میں آتا ہے۔

نگاہ ولی میں وہ تاثیر دیکھی

بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی

ایک روایت ہے کہ یہ ہندو راجا آپ کے حسن و اخلاق اور کرداروکرامات کی وجہ سے مسلمان ہو گیا تھا آپ کا ایک اونٹ تھا جو کہ علاقے میں (میاں میلو) کے نام سے مشہور تھا جس کے گلے میں لکڑی کا ایک کاسہ ہوتا تھا  میاں میلو علاقہ میں جاتا تو عقیدت مند لوگ اس کاسہ میں کھانے پینے کی اشیاء ڈالتےلیکن اس کاسہ کی خصوصیت یہ تھی کہ کھانے پینے کی کوئ بھی چیز آپس میں مکس نہیں ہوتی تھی وہ کاسہ آج بھی مزار پاک میں موجود ہے جو اس وقت محکمہ آثار قدیمہ کی ملکیت ہے۔ اونٹ نزدیکی مضافات میں جاتا اور لنگر لے کر آتا جو کہ مریدین میں تقسیم ہوتا۔ روایت ہے کہ ایک دفعہ میاں میلو مشرق کی طرف 3 میل دور کھنڈ برادری کے ہاں لنگر لینے آیا ہوا تھا وہاں ایک اونٹنی کو دیکھ کر مست ہو گیا اللہ کے ولی کی نگاہ معرفت اونٹ کو دیکھ رہی تھی۔ لہذا آپؒ ناراض ہوئے اور حکم خداوندی سے وہ اونٹ (میاں میلو) پتھر کا بن گیا۔ آج بھی وہ پتھر جو کہ اونٹ کے مشابہ ہے موجود ہے۔

آپ کے عقیدت مند مریدین پورے پاکستان کے علاوہ ہندوستان میں بھی ہیں جو کہ مزار پاک پر آتے رہتے ہیں  اور مزار پاک پر رش کا سماں رہتا ہے۔ دائرہ دین پناہ شرقی اور دائرہ دین پناہ غربی (جو دریاےٗ سندھ ک مغربی کنارے تحصیل تونسہ شریف میں ہے) آپؒ کے مزارات ہیں۔

حضرت دین پناہؒ صاحب کرامت ولی الکامل تھے آپ کے ہاں اکثر عقیدت مندوں اور مریدوں کا ہجوم رہتا تھا۔ مریدین لنگر لے کر آتے رہتے تھے بروایت ایک دفعہ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر جس نے آپ کے بارے میں سن رکھا تھا آپکی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کی خدمت میں ہیرے جواہرات پیش کیے اسی اثنا میں ایک غریب عقیدت مند مرید جو کہ تھوڑے سے (چیڑاں) جو گندم کی ایک قسم ہے لے کر آپؒ کی خدمت میں پیش کیےتو حضرت دین پناؒ نے ہیرے اور جواہرات کو پکڑ کر دبایا تو ان سے خون نکلنے لگا بعد میں اس غریب عقیدت مند کے جو کو ہاتھ میں پکڑ کر دبایا تو اس سے دودھ نکلنے لگا تو آپ نے ان ہیرے و جواہرات کو لینے سے انکار کر دیا۔  اکبر اعظم آپ کی کرامات کو دیکھ کر اتنا متاثر ہوا کہ آپ کے وصال کے بعد 1011ھ میں آپ کے مزار کو تعمیر کرایا جو کہ آج بھی محکمہ آثار قدیمہ میں مغلیہ دور کا عظیم ورثہ ہے۔

 

اس دنیا میں کئی آئمہ کرام اور ولی کامل آے جنہوں نے اپنی ساری زندگی دین اسلام کی خاطر وقف کر دی ہر طرف اسلام کا پرچار کیا ان سب ہستیوں میں دین پناہ کا لقب صرف دو ہستیوں کو ملا ایک حضرت امام حسینؑ جنہوں نے کربلا کے میدان میں اپنے عزیز و اقارب کے خون سے دین اسلام کی آبیاری کی اور دوسرا سید عبدالوہاب شاہ بخاریؒ کو ملا۔آپ کے جدامجد کے مزارات آج بھی اچ شریف میں جلوہ افروز ہیں اور روحانیت کا مرکز ہیں۔چونکہ آپ مکول خاندان کی ایک نیک اور پارسا خاتون کی زیر تربیت بھی رہے انکی اپنی اولاد بھی تھی۔

 

مائ سہاگن کی بیٹی کی شادی قریب آگئ لیکن ان کی جائیداد کو حضرت دین پناہ نے اللہ کی راہ میں خرچ لر دیا تھا۔ والدہ صاحبہ پریشان تھیں لیکن شادی والے دن حضرت دین پناہ سرکارؒ نے خالی دیگیں منگوائیں اور ان کے منہ بند کرنے کا حکم دیا پھر اس میں جال کے درخت کے پتے ڈال کر دیگوں کا منہ بند کروا دیا جب بارات کے کھانے کا وقت آیا اور دیگوں کو کھولا گیا  تو مختلف قسم کے لزیز کھانے تیار تھے۔ اسی طرح آپ کی اور کرامات اور کمالات بھی ہیں۔ آج بھی ہزاروں لوگ آپ کے مزار پر آتے ہیں اور روحانیت پاتے ہیں۔

حضرت لعل عیسنؒ کروڑ جو کہ اللہ پاک کے برگزیدہ ولی گزرے ہیں جنکا مزار شریف دائرہ دین پناہ سے تقریباً 50 میل دور ضلع لیہ میں واقع ہے۔ آپؒ دین پناؒ کے ہم عصر ولی تھے۔ حضرت دین پناہؒ کا ایک بیڑہ (کشتی) تھا جو کہ حکم خداوندی سے پانی کے علاوہ خشکی پر بھی چلتا تھا۔ وہ بیڑا آج بھی تحصیل تونسہ شریف کے نواحی علاقے (بیچھرہ) میں موجود ہے۔

ایک دفعہ حضرت دین پناہؒ اپنے بیڑے کو خشکی پر چلاتے ہوے جا رہے تھے جب حضرت لعل عیسنؒ نے یہ منظر دیکھا تو بیڑے کو اللہ پاک کے حکم سے رک جانے کو کہا تو بیڑا رک گیا۔ حضرت دین پناہؒ کو جب اس واقعہ کا علم ہوا تو آپؒ نے فرمایا اے میرے اللہ بیڑا رکوانے والے کے سینگ کیوں نہیں نکل آتے تو حضرت لعل عیسنؒ کے سینگ لگ گئے۔ پھر لعل عیسنؒ کی والدہ ماجدہ جو کہ ایک نیک اور پارسا خاتون تھیں دین پناہؒ کے پاس تشریف لائیں اور معافی کی طلبگار ہو ئیں تو آپؒ نے انہیں معاف فرمادیا تو لعل عیسنؒ کے سینگ غائب ہو گئے لیکن آج بھی جو لعل عیسنؒ کے خاندان کےقریش ہیں انکے سروں پر سینگ کے ہلکے نشانات موجود ہیں۔

ایک دفعہ اس وقت کے مغل بادشاہ کو دہلی میں جو اس وقت متحد پاک و ہند کا دارالخلافہ تھا بادشاہ کے دربارمیں چند کم ظرف اور معرفت اولیائے سے نا اہل لوگوں نے شکایت کی کہ ملتان کی سلطنت  دائرہ میں ایک بزرگ جو کہ حضرت عبدالوہاب شاہ بخاریؒ المعروف دین پناہ کے نام سے مشہور ہیں ان کے ہاں اکثر عورتوں اور نوجوان لڑکیوں کا آنا جانا رہتا ہے۔

بادشاہ کے دربار میں دین پناہؒ کا ایک مرید بھی ملازم تھا جب اسکو اپنے مرشد کامل کے بارے میں علم ہوا تو وہ بہت پریشان ہوا ادھر ولی کامل کی معرفت کی آنکھ یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی تو دین پناہ سرکارؒ نے کپاس کا گولا منگوایا اور اس کپاس کے گولے پر آگ کا بڑا انگارہ رکھ دیا قدرت خداوندی سے اس آگ نے کپاس کے گولے کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا اور کپاس کا یہ گولا اڑتا ہوا مغل بادشاہ کے دربار پہنچ گیا اور آپؒ ک مرید کی جھولی میں آگیا جو کہ دربار میں ملازم تھا۔ بادشاہ نے یہ منظر دیکھا تو بہت حیران ہوا اور آپؒ سے ملنے کا اشفاق ہوا اور آپؒ سے ملاقات کی  اور آپکا مزار بھی بنوایا جو کہ اس بادشاہ کی آپؒ سے محبت کی عکاسی کرتا ہے۔

حضرت دین پناہ کی وفات 1011ھ میں ہوئی۔ چند روایات کے مطابق آپکو زہر دیا گیا لیکن ان روایات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ بہرحال جب آپکی وفات ہوئی تومکول خاندان جو کہ آدھا دریائے سندھ کے مشرقی کنارے اور آدھا غربی کنارے آباد تھا۔ تو ہر چند کی خواہش تھی کہ آپؒ کو اپنے ہاں دفن کیا جائے اس مقصد کے حصول کیلیئے دونوں دھروں میں لڑائی کا خطرہ بڑھ گیا تو آپ نے اس خاندان کے بزرگوں کو بشارت دی کہ میرا جسد اطہر دریائے سندھ کے سپرد کیا جائے۔ لہذا ایک صندوق بنوایا گیا جس میں آپکے جسم مبارک کو رکھا گیا اور دریا میں چھوڑ دیا گیا جب یہ صندوق دریا کے درمیان پہنچا تو صندوق نے پانی میں ڈبکی لگائی اور قدرت الہی سے دو صندوق باہر نکلے۔ ایک صندوق دریا کے مغربی کنارے اور دوسرا شرقی کنارے جا لگلا۔

جب غربی کنارے والوں نے صندوق کھولا تو آپکا جسد اطہر پایا ادھر شرقی کنارے والوں نے کھولا تو آپکا جسد اطہر پایا دونوں کناروں والوں نے اپنے ہاں آپؒ کو مدفون کیا  آج بھی دائرہ غربی اور دائرہ شرقی دونوں جگہوں پر آپ کے مزارات ہیں جو آج بھی رشد و ہدایت کا پیکر ہیں۔

لیکن محکمہ اوقاف کی عدم توجہی کی بنا پر مزار ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ مزید راقم الحروف اسکو ستم ضریفی یا صاحب اقتدار لوگوں کی بے حسی اور بد قسمتی سمجھتا ہے کہ کسی نے بھی اس ولی کامل کی مزار پاک پر کوئی توجہ نہ دی حالانکہ اس ولی کامل کے شہر کے ہنجرا صاحبان ، کھر صاحبان اور قریشی صاحبان ایم پی اے ،ایم این اے سے لے کر وزیر تک رہ چکے ہیں لیکن افسوس صد افسوس وعدوں کے با وجود صرف آپؒ کے مزار چادر چڑھانے تک خود کو محدود رکھا اور کسی نے بھی مزار شریف کی خستہ ہالی پر کوئی توجہ نہ دی۔ تاریخ گواہ ہے جن قوموں نے اپنے ثقافتی ورثہ کو پیچھے چھوڑا وقت نے بھی انہیں پیچھے چھوڑ دیا وہ قومیں وہ تہزیبیں تباہ ہ برباد یو گئیں۔

نوٹ : اس تحریری مواد کو آپ کی خدمت میں پہنچانےکا سہرا مخدوم قمر عباس قمر کے سر ہے۔ انکی بھر پور محنت،لگن اور کاوشوں کے نتیجے سے ہم یہ تحریر آپ تک پہنچانے کے قابل ہوئے ہیں۔ اور جن احباب کرام عزیز دوستوں نے اس کاوش کو آپ تک پہنچانے میں ہماری مدد کی اللہ پاک انکی اس کاوش کو قبول مقبول فرمائے۔ آمین

مرتب کنندہ: رانا انس اکرام

Back to top button