history of daira din panah دائرہ دین پناہ کی تاریخ

دائرہ دین پناہ

دائرہ دین پناہ تاریخی،علمی،مذہبی،ادبی،تجارتی،سیاسی اعتبارسےتقریباًٍ پچاس ہزارنفوس پرمشتمل آبادی کاضلع مظفرگڑھ کاایک اہم قصبہ ہے۔ برصغیرکاایک حصہ ہونے کے سبب اس کی تاریخ بھی قُرب وجوارکےدیگرعلاقوں سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔مختلف ادوارمیں سندھ کے شرقی کنارے پرآباداس قصبہ کارُخ کرنے والے فاتحین یہاں کبھی براہِ راست یابالواسطہ حکمرانی سے لطف اندوزہوتےرہےالبتہ دہلی،وادی سندھ،صوبہ ملتان،ڈیرہ غازی خان کازیادہ غلبہ رہا۔عرب فاتحین ہوں یامیرانی ہوں یارنجیت سنگھ،نواب مظفرخان،برطانوی حکومت ہویادیوان لالہ ساون مل اب یہ سب تاریخ کاحصہ ہیں۔”رہے نام اللہ کا”۔

کوٹ ادو سے شمالی جانب لیہ جانے والی جرنیلی سڑک پرواقٓع اس قصبہ کانام حضرت سیدوہاب شاہ بُخاری المعروف دین پناہ سے موسوم ہے۔آپ تقریباًساڑھے چارسوسال قبل یہاں تشریف لائے اورایک روایت کے مطابق شہنشاہ اکبرنے اپنے خاص فرمان سے حکم دیاکہ جہاں تک حضرت دین پناہ کے نقارے کی آوازپہنچے وہ ساراعلاقہ آپ کوبطورجاگیردے دیاجائے۔حضرت دین پناہ کے نقارے کے دائرے کی رعایت سے قصبے کانام دائرہ دین پناہ پڑا۔

گوکہ گیارہ بارہ کوہ تک حضرت دین پناہ کی جاگیرتھی لیکن آپ نے بہت کم مواضعات خانقاہ اورفقرائ کے اخراجات کے لیے رکھے باقی لوگوں کی تحویل میں رہنےدیئے۔ان کی تشریف آوری سے قبل ایک غیرمصدقہ روایت کے مطابق اس قصبہ کانام ایک متمول ہندو کے نام پر”دارا”تھایاپھر اس علاقے میں مسلمانوں کی کثرت کے تناظرمیں”دین پور”بھی رہا۔

 تاریخ کےمطابق1780ءمیں والئی کابل تیمورشاہ نے محاصرہ ملتان کےدوران یہ علاقہ نواب شاہ محمدبادوزئی کی بہادری سے خوش ہوکریہ علاقہ بطورجاگیرعطاکیا۔ گوکہ نواب مظفرخان نے اس فیصلہ کوتسلیم نہ کیااورنواب عبدالصمدخان کوکچھ عرصہ کیلیئے قلعہ دین پورمیں پناہ لیناپڑی جہاں اسنے ایک قلعہ(گڑھی)تعمیرکیاتھا۔ جس کےآثارکچھ عرصہ قبل تک موجودتھے۔نواب پادشاہ محمدکے بیٹے عبدالصمدخان بادوزئی کی کچہری باقاعدہ طورپرچاہ باغ والامیں لگتی تھی اس دوران اُس نے یہاں ایک”بگی مسجد”بھی تعمیرکرائی جوآج بھی موجودہے۔

جس وقت پنجاب پرسکھوں کاراج قائم ہوااورملتان پرسکھوں کاقبضہ تسلیم کرلیاگیا توعبدالصمدخان کوبھی سکھوں کے خلاف لڑتے ہوئے دائرہ دین پناہ کے شمالی بازارمیں گرفتارکرلیاگیا۔ 1859ءمیں یہ علاقہ ضلع لیہ سے علیحدہ ہوکرضلع مظفرگڑھ کاحصہ بنا۔82-1881ءمیں یہ میونسپلٹی تھی لیکن1886ءمیں اس کی اس حیثیت کوختم کردیاگیااور1924ءمیں اسے سمال ٹاؤن کادرجہ دیاگیا۔

ٹاؤن کمیٹی کے پہلے صدرخان بہادرمیاں غلام قاسم خان تھے۔اس قصبہ کی منڈی اطراف واکناف میں اُون،بان،کھجور،آم،تربوز،مُونج،لکڑی،کھجورکے بھوتروں سے بنے ہوئے سامان اورملتانی مٹی کی وجہ سے مشہورتھی۔1958ءمیں اس منڈی کے نرخ یہ تھے۔دیسی چینی10آنے سیر،بناسپتی گھی3روپےسیر،مٹھائی ڈیڑھ روپیہ سیر،چھوٹاگوشت ڈیڑھ روپیہ سیر،لکڑی 2روپے من،گندم ساڑھے بارہ روپے من وغیرہ۔

 

بشکریہ: ڈاکٹرسجادحیدرپرویز

مصنف: تاریخ مظفرگڑھ۔ بحوالہ ڈسٹرکٹ گزیٹرمظفرگڑھ

محقق: پروفیسرنیازجعفری(مرحوم)

 

Back to top button