🇮🇷 ایران میں احتجاجات — کب شروع ہوئے، کیوں، اور عوام کیا چاہتی ہے؟ (تفصیلی تجزیہ)
📅 کب شروع ہوئے ؟
ایران میں نئی احتجاجات کا سلسلہ 28 دسمبر 2025 کو شروع ہوا جب لوگ پہلے تہران کے بازاروں میں نکلیے، اور پھر یہ مظاہرے تیزی سے ملک کے تمام 31 صوبوں تک پھیل گئے۔ یہ احتجاجات 2022 کے مہسا امینی پروٹیسٹ کے بعد سب سے بڑے عوامی بغاوت کا رخ ہیں۔
❓ بنیادی وجہ کیا ہے ؟
احتجاجات کے پیچھے بہت سی گہری اور دیرپا وجوہات ہیں، جن میں سب سے اہم یہ ہیں:
🔹 1) غلاظت زدہ معیشت اور مہنگائی
ایران کی معیشت کئی سالوں سے بحران میں ہے۔ بین الاقوامی پابندیوں، حکومت کی پالیسیوں اور بدانتظامی کی وجہ سے مہنگائی 40% سے زیادہ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ بنیادی اشیاء کے نرخ آسمان کو چھو رہے ہیں۔
وریل کی قدر ڈرامائی طور پر گر گئی ہے جس سے عوام کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔
🔹 2) بیروزگاری اور عوامی بےچینی
لوگوں کی آمدنی بڑھنے کے بجائے گھٹ رہی ہے، بےروزگاری بڑھ رہی ہے، اور روزمرہ ضروریات کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس نے عام شہریوں اور دکانداروں دونوں کو سڑکوں پر لا دیا۔
🔹 3) سیاسی درد اور سیاسی آزادی کی خواہش
ابتدائی طور پر اقتصادی محرکات کے ساتھ شروع ہونے والے مظاہرے جلد ہی ایک وسیع قومی بغاوت کی شکل اختیار کر گئے۔ اب لوگ موجودہ سیاسی نظام میں تبدیلی، آزاد انتخابات، اور جمہوری اصلاحات کی بھی آواز بلند کر رہے ہیں۔
🔹 4) حکومت کی سخت کریک ڈاؤن اور انسانی حقوق کی پامالی
حکومت نے مظاہروں کو دبانے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں، جیسے انٹرنیٹ کی ملک گیر بندش، ہتھیاروں کے استعمال اور ہزاروں گرفتاریاں۔ ان سختیوں نے عوامی ناراضگی میں مزید اضافہ کیا ہے۔
🧠 عوام کیا چاہتے ہیں ؟
احتجاج مذہب یا صرف لباس جیسا موضوع نہیں رہا، بلکہ اب ایک وسیع عوامی مطالباتی تحریک بن چکا ہے جس کے اہم مطالبات یہ ہیں:
✔️ مہنگائی کو کنٹرول کرنا
✔️ بےروزگاری اور غربت کا حل
✔️ شفاف اور آزاد انتخابات
✔️ سیاسی اصلاحات اور حکومتی جوابدہی
✔️ نظام میں گہری تبدیلی
✔️ کچھ حلقے نظام کی تبدیلی یا نئے قیادت کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں بشمول سابق شاہی خاندان سے وابستہ رہنماؤں کے۔
📌 مظاہروں کے منفی اثرات
-
سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے اور ہزاروں گرفتار ہوئے ہیں۔
-
ملک بھر میں حملے، جھڑپیں اور تشدد کے مناظر عام ہیں۔
-
حکومت نے انٹرنیٹ سروس بند کر دی، جس نے معلومات کے بہاؤ کو روکا۔
⚠️ حکومت کا ردِ عمل
سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور حکومت نے احتجاج کو دہشت گردی اور غیر ملکی سازش قرار دیتے ہوئے سخت کاروائیاں شروع کی ہیں، جبکہ حکومت حامی مظاہرے بھی منعقد کروا رہی ہے۔






