پاکستان

حکومت کا پنجاب میں مکمل لاک ڈاؤن نا کرنے کی ہدایات

وزیر اعظم عمران خان نے لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لاہور سمیت کسی بھی ضلعی کو مکمل لاک ڈاون نہیں کیا جائے گا، شہروں کو ٹاون کی سطح پر لاک ڈاون نہیں کیا جائے گا، لاہور میں بھی صرف ریڈ زون بنائے گئے علاقوں کو لاک ڈاون کیا جائے گا، جب کہ 30 جون تک ایک ہزار نئے ایچ ڈی یوز مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں مارکیٹیوں کو بند کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا اور مارکیٹیوں کو بند کرنے کی بجائے ایک وارننگ مزید دینے پر اتفاق ہوگیا، جب کہ صوبے بھر میں فیس ماسک کا استعمال لازم قرار دینے کا فیصلہ ہوا اور کہا گیا کہ  ایس او پیز کی خلاف ورزی پر متعلقہ مارکیٹ، دکان، پلازہ یا بلڈنگ لاک ڈاؤن کردی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے شروع سے تاثرات ہیں کہ اگر ہمارا ملک سنگاپور جیسا چھوٹا ملک ہوتا جس کی 50 لاکھ کی آبادی ہے، تائیوان یا نیوزی لینڈ کی طرح ہوتا جہاں 30 لاکھ آبادی ہے تو اس ملک کو لاک ڈاؤن کرنا بڑا آسان کام ہے، یہ امیر ملک ہیں جن کی سالانہ آمدنی 30، 50 ہزار ڈالر ہے، ان کو بند کردینے سے کوئی زیادہ مسئلہ نہیں ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت، بنگلہ دیش اور ہمارے مختلف حالات ہیں، جب ہم لاک ڈاؤن کرتے ہیں اور معاشی سرگرمیاں معطل ہوتی ہیں تو دہاڑی دار طبقے پر سارا بوجھ پڑتا ہے اور وہ بے روزگار ہوتے ہیں۔

Back to top button