صحت

اونٹنی کا دودھ یا سفید سونا

اونٹنی کے دودھ کو سفید سونا کیوں کہا جاتا ہے؟ جانیں اس کے حیران کن طبی فوائد، وٹامن سی کی مقدار، ہاضمے پر اثرات اور ماہرین کی رائے۔

ایک مشہور کہاوت کے مطابق اونٹنی کے دودھ کو “سفید سونا” کہا جاتا ہے، اور اس کی وجہ اس کے بے شمار صحت بخش فوائد ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں، خاص طور پر بنجر اور نیم خشک علاقوں میں، اونٹنی کا دودھ صدیوں سے انسانی خوراک کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دودھ نہ صرف غذائیت سے بھرپور ہے بلکہ بعض بیماریوں میں مفید بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق اونٹنی کے دودھ میں ایسے غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں جو اسے دیگر دودھ کی اقسام سے ممتاز بناتے ہیں۔ سعودی جرنل آف بائیولوجیکل سائنسز میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اونٹنی کے دودھ میں گائے کے دودھ کے مقابلے میں تین سے پانچ گنا زیادہ وٹامن سی موجود ہوتا ہے، جو جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گائے اور بھینس کے دودھ میں پایا جانے والا پروٹین بیٹا لیکٹوگلوبلین اکثر افراد، خاص طور پر بچوں میں الرجی کا سبب بنتا ہے، جبکہ اونٹنی کے دودھ میں یہ پروٹین موجود نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے اونٹنی کے دودھ کی پروٹین ساخت انسانی دودھ سے زیادہ مشابہ سمجھی جاتی ہے، جس کے باعث یہ آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اونٹنی کا دودھ ان افراد کے لیے ایک بہتر متبادل ہو سکتا ہے جنہیں عام دودھ پینے کے بعد گیس، تیزابیت یا معدے میں بھاری پن کی شکایت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ گائے یا بھینس کے دودھ کے مقابلے میں اونٹنی کے دودھ میں چکنائی کی مقدار بھی کم پائی جاتی ہے۔

طبی ماہر ڈاکٹر پرشانت پنارا کے مطابق اونٹنی کا دودھ غذائیت کے لحاظ سے انسانی دودھ کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دودھ میں وٹامن بی 1، بی 2، بی 12، وٹامن سی، زنک، کیلشیم، پروٹین اور صحت بخش چکنائی مناسب مقدار میں موجود ہوتی ہے، اور عام طور پر اس کے کوئی مضر اثرات سامنے نہیں آئے۔

ڈاکٹر پرشانت کے مطابق اونٹنی کا دودھ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے اور جدید تحقیق اس کے طبی فوائد کو مزید واضح کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں اونٹنی کے دودھ کو ایک قیمتی اور صحت بخش غذائی نعمت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں
Back to top button